رمضان المبارک میں حاملہ خواتین کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر کی ہدایت= معروف ڈاکٹر سمیہ فاطمہ - EYLAAPH E MEDIA

EYLAAPH E MEDIA

EYLAAPH EMEDIA PVT LTD. IS DELIVERING COMMON NEWS TO THE WORLD THROUGH IT'S REPORTERS , NEWS WHICH CONTAINS REALITY. TRUTH WHICH OTHERS NEVER COVER, PLEASE SHARE OUR CHANNEL AND MAKE IT SUBSCRIBED IN YOUR MOBILE TO GET UPDATED ON EVERY NEWS FROM EYLAAPH NEWS.

Eylaaph Breaking update

Post Top Ad

Post Top Ad

Weather

Translate

Tuesday, February 17, 2026

رمضان المبارک میں حاملہ خواتین کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر کی ہدایت= معروف ڈاکٹر سمیہ فاطمہ

 کرناٹک:بیدر= رمضان المبارک میں حاملہ خواتین کے لیے خصوصی احتیاطی تدابیر کی ہدایت= معروف ڈاکٹر سمیہ فاطمہ
فروری 17:کرناٹک کے ضلع بیدر میں معروف گائناکالوجسٹ ڈاکٹر سمیہ فاطمہ نے رمضان المبارک کے آغاز کے موقع پر حاملہ خواتین کو روزے کے حوالے سے اہم طبی مشورے جاری کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حمل ایک حساس مرحلہ ہوتا ہے جس میں ماں اور بچے دونوں کی صحت کا خصوصی خیال رکھنا ضروری ہے، اس لیے روزہ رکھنے کا فیصلہ جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ طبی مشورے کے تحت کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر سمیہ فاطمہ کے مطابق ہر حاملہ خاتون کی جسمانی کیفیت مختلف ہوتی ہے۔ بعض خواتین صحت مند ہونے کی صورت میں روزہ رکھ سکتی ہیں، تاہم جن خواتین کو خون کی کمی، شوگر، ہائی بلڈ پریشر، تھائرائیڈ یا دیگر پیچیدگیاں لاحق ہوں، انہیں روزہ رکھنے سے پہلے مکمل طبی معائنہ کروانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تین ماہ اور آخری تین ماہ کا عرصہ زیادہ حساس ہوتا ہے، اس دوران خصوصی احتیاط ضروری ہے۔
انہوں نے سحری اور افطار کے حوالے سے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ متوازن غذا کا استعمال بے حد اہم ہے۔ سحری میں دودھ، انڈے، دلیہ، پھل، کھجور، خشک میوہ جات اور پروٹین سے بھرپور غذائیں شامل کی جائیں تاکہ دن بھر توانائی برقرار رہے۔ اسی طرح افطار میں ہلکی اور غذائیت سے بھرپور اشیاء لی جائیں اور بہت زیادہ تلی ہوئی، مصالحہ دار اور چکنائی والی چیزوں سے پرہیز کیا جائے تاکہ معدے اور نظامِ ہاضمہ پر اضافی دباؤ نہ پڑے۔
پانی کی کمی کو حمل کے دوران ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افطار سے سحری تک کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینا ضروری ہے۔ جسم میں پانی کی کمی سے کمزوری، چکر آنا اور بلڈ پریشر میں کمی جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جو ماں اور بچے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ڈاکٹر سمیہ فاطمہ نے مزید کہا کہ اگر روزے کے دوران شدید کمزوری، متلی، الٹی، پیٹ میں درد، بچے کی حرکت میں واضح کمی، دھندلا نظر آنا یا خون آنا جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوراً روزہ توڑ دینا چاہیے اور قریبی اسپتال یا گائناکالوجسٹ ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صحت کے معاملے میں کسی بھی قسم کی لاپروائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ دین اسلام میں حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو رعایت دی گئی ہے، لہٰذا اگر طبی طور پر خطرہ ہو تو بعد میں قضا روزے رکھنے کی اجازت موجود ہے۔ شریعت اور طب دونوں ماں اور بچے کی سلامتی کو مقدم رکھتے ہیں۔
آخر میں انہوں نے بیدر اور اطراف کے علاقوں کی خواتین سے اپیل کی کہ وہ باقاعدہ طبی چیک اپ کروائیں، ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کریں اور رمضان المبارک میں اپنی صحت کو اولین ترجیح دیں تاکہ ایک صحت مند ماں اور صحت مند بچے
کی ضمانت یقینی بنائی جا سکے۔

No comments:

Post Top Ad