اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اہم رہنمائی اسلامی تعلیمات میں زکوٰۃ ایک اہم رکن ہے جو معاشرے کے مستحق اور ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے فرض کی گئی ہے۔ لیکن اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ زکوٰۃ کا مستحق کون ہے؟ اس حوالے سے قرآن و سنت میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ قرآن مجید کی سورۃ التوبہ میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصارف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: "زکوٰۃ تو صرف فقیروں اور مسکینوں اور ان کام کرنے والوں کا حق ہے جو اس کی تحصیل پر مقرر ہیں اور ان لوگوں کا جن کے دلوں کو اسلام کی طرف مائل کرنا مقصود ہے اور (مقرر ہے) غلام آزاد کرانے میں اور قرض داروں کے قرض ادا کرنے میں اور اللہ کی راہ میں (جہاد کرنے والوں کے لیے) اور مسافروں کے لیے۔ یہ اللہ کا مقرر کردہ فریضہ ہے اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔" (سورۃ التوبہ: 60) اس آیت مبارکہ کی روشنی میں زکوٰۃ کے مستحق افراد یہ ہیں: (فقراء) وہ لوگ جن کے پاس اپنی بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے کافی مال و اسباب نہ ہو۔(مساکین) وہ حاجت مند جو اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہوں لیکن ان کی آمدنی ناکافی ہو۔ (زکوٰۃ جمع کرنے والے) وہ افراد جو زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کے کام پر مامور ہوں۔(مؤلفة القلوب) وہ نو مسلم یا غیر مسلم جن کی دلجوئی اور مدد کرنے سے اسلام کی طرف رغبت بڑھے۔ (اس مصرف پر علماء کا اختلاف ہے کہ اب یہ موجود ہے یا نہیں) (غلام آزاد کرانا) اب یہ مصرف موجود نہیں ہے) (مقروض) وہ لوگ جو قرض میں ڈوبے ہوئے ہوں اور ان کے پاس قرض ادا کرنے کے لیے وسائل نہ ہوں۔ (اللہ کی راہ میں) وہ لوگ جو دین کی سربلندی کے لیے کام کر رہے ہوں، مثلاً مجاہدین، طلباء، اور مبلغین۔(مسافر) وہ مسافر جو سفر کے دوران بے سہارا ہو جائیں اور ان کے پاس واپسی کے لیے رقم نہ ہو۔ علماء کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ زکوٰۃ صرف مسلمانوں کو دی جا سکتی ہے۔ غیر مسلموں کو صدقہ اور خیرات دی جا سکتی ہے لیکن زکوٰۃ نہیں۔ زکوٰۃ ایک اہم عبادت ہے اور اسے صحیح مستحقین تک پہنچانا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں مستند علماء کرام سے رہنمائی حاصل کرنا اور دیانت داری سے زکوٰۃ کی تقسیم کرنا ایک ایماندار مسلمان کی ذمہ داری ہے۔

No comments:
Post a Comment